پلسٹیلا مزاج کے بچے کیسے ہوتے ہیں؟
ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ پلسٹیلا (Pulstilla) اگرچہ صنف نازک کی دوا سمجھی جاتی ہے تاہم جہاں تک بچوں کا معاملہ ہے اس میں دونوں طرح کے بچے شامل ہوتے ہیں یعنی لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی۔ لیکن سنِِ بلوغت کو پہنچنے سے پہلے پہلے اکثر لڑکے پلسٹیلا کے دائرہ کار سے باہر نکل کر دوسری مختلف مزاجی دواؤں میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لڑکے جو شروع میں گوری رنگت کے ہوتے ہیں بتدریج گندمی رنگ اختیار کر جاتے ہیں۔ پلسٹیلا بچے نہایت جذباتی، معصوم اور ہمدردی کے بھوکے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی ایسے …
رعشہ – ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی ،Huntington’s Chorea, Chorea
کانپنا، عجیب و غریب جسمانی حرکت، بے ڈھب چال، ہاتھ، پاؤں اور چہرہ کے عضلات کا بغیر ارادہ پھڑکنے، بعض اوقات ناچنے کی سی جسمانی حرکت کو رعشہ یا کوریا (CHOREA) کا مرض سمجھا جاتا ہے۔ یہ علامات بچوں میں، پانچ چھ سال کی عمر کے بعد نمودار ہونا شروع ہوتی ہیں۔ ابتداء میں ایک بازو یا ایک ٹانگ اور بعض اوقات دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ بچے کی حرکت میں ایک جھٹکا سا محسوس ہوتا ہے جو دیکھنے والوں کو بھی نظر آ جاتا ہے۔ اُٹھنے، بیٹھنے میں، کوئی چیز اٹھانے اور رکھنے میں، روٹی کا نوالہ توڑنے، اٹھانے اور …
اکیلے باہر جانے کا ڈر – ہومیوپیتھک علاج – فیڈبیک (حسین قیصرانی)
یہ فیڈبیک ہے ایک نوجوان بچی کا جو، ماشاءاللہ، آجکل پاکستان کی ٹاپ لیول یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ ہیں۔ مہینہ بھر قبل اُس نے اپنا کیس فون پر ڈسکس کیا۔ کافی سارے ڈر، خوف اور فوبیاز کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا اور اہم ترین مسئلہ یہ تھا کہ وہ کسی صورت بھی اکیلے باہر نہیں جا سکتی تھیں۔ چونکہ وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے؛ اس لئے یہ مسئلہ کبھی اُن کے لئے اتنا بڑا نہیں رہا۔ گھر کا کوئی فرد، ملازمہ، ڈرائیور یا گارڈ ہمیشہ ساتھ رہتا چاہے کہیں بھی جانا ہوتا۔ یونیورسٹی میں البتہ کبھی کبھار تھوڑی سی …
باہر کی داوئی سے ڈر لگتا ہے اور ہومیوپیتھک دوائی سے سکون رہتا ہے — آن لائن کلائنٹ کا فیڈبیک (حسین قیصرانی)
سچ تو یہ بھی ہے اب باہر کی دوائی سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ آپ کی دوائی سے ہم کو سکون رہتا ہےمہربانی سر جی ۔۔۔۔۔۔۔ سر جی مَیں تین سال تک ڈاکٹرز کے پاس جاتا رہا مگر کسی نے بھی مجھے وقت نہیں دیا؛ نہ ہی بہتر دوائی دی۔ نشے والی گولیاں تک دے دی۔ میری عمر ابھی اتنی نہیں تھی جتنا میں صحت سے خراب ہو گیا ۔۔ مجھے جو بھی تھا ڈاکٹر نے مجھے بہتر کرنا تھا مگر ادھر فیس کی فکر اور گاہک والا چکر ہے سب ۔۔ بہت کم ڈاکٹر ہیں جو انسانیت کی خدمت …
شہریار کیوں روتا ہے؟ اِس لیے کہ اُس کا دل کرتا ہے – ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی
ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی باقی طریقہ ہائے علاج سے ایک خاص انفرادیت یہ بھی ہے کہ اِس میں ہر مریض یا انسان کے مزاج کو سمجھ کر نہ صرف اُس کے موجودہ جسمانی، ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی مسائل کو حل کیا جاتا ہے بلکہ مستقبل میں درپیش ہو سکنے والے چیلنجز کے لئے بھی تیار کرتا ہے۔ منسلکہ مختصر ویڈیو کلپ میں آپ دیکھیں کہ شہریار بے وجہ روئے جا رہا ہے۔ جب اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیوں روتے ہو؟ تو وہ کہتا ہے کہ اُس کا دل کرتا ہے۔ جن بچوں کا رونے کو دل کرے یا …
پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان کا ایک کامیاب کیس (ترجمہ: حسین قیصرانی، لاہور)
یہ کیس ہے ایک پچیس سالہ، بے حد محنتی اور مہذب نوجوان کا. مستقل محنت اور کام کی زیادتی کی وجہ سے یہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ تفصیلی کیس لینے سے مندرجہ تکالیف و علامات پائی گئیں: پیشانی میں بلکہ آنکھوں کے عین اوپر ہلکا درد کام کے بعد تھکان آنکھیں – جیسے پیچھے کھنچتی ہوں کمرے کی گرمی میں تکالیف کا بڑھ جانا جبکہ کھلی ہوا میں بہتری اپنے دفتر کی فائلوں اور چیزوں کو ترتیب میں نہ رکھنا دل، دماغ اور سوچوں میں اضطراب و پریشانی کسی معاملے کو نمٹانے میں مشکل دفتر میں جو …
پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ درانی – خواتین کے عالمی دن پر کچھ یادیں
پیشِ خدمت ہے پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ درانی صاحبہ کا مضمون — دولت کی پیدا کردہ بیماریاں۔ اُن کا یہ مضمون اگرچہ ہومیوپیتھی سے براہِ راست متعلق نہیں ہے تاہم اُن روَیوں کی نشان دہی ضرور کرتا ہے جو کسی انسان کی جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی بیماریوں میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ پاکستان کی صفِ اول کی گائناکالوجسٹ ہیں۔ اُن سے وقت لینے کے کے لئے مریضوں کو مہینہ بھر انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ روزانہ کم و بیش سو مریض تو دیکھتی ہی رہی ہیں۔ اپنی پریکٹس کے دوران وہ غریبوں اور مستحق افراد کے خصوصی …
دولت کی پیدا کردہ بیماریاں – پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ درانی
غریبی اپنے ساتھ جو مصیبتیں لاتی ہے اس کا اندازہ ہر قلبِ حساس بآسانی کرسکتا ہے۔ لیکن ایک غلط معاشرہ میں دولت کی فراوانی جس قسم کی تباہیاں لاتی ہے، اس کا تصور عام طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ ان تباہیوں کا ایک گوشہ وہ ہے جس کا اندازہ مجھے بہ حیثیت ایک ڈاکٹر کے ہوا۔ اور انہی کی ایک خفیف سی جھلک میں اس وقت آپ کو دکھانا چاہتی ہوں۔ جہاں تک بیماری اور اس کے علاج کا تعلق ہے؛ غریبی کی پیدا کردہ مصیبت ایک ہی نوعیت کی ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہ ایک غریب بیوہ اپنی اکلوتی بیٹی …
خواتین کی شرمگاہ میں خارش کا ہومیوپیتھک علاج – مرکیورس کیس (پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان)
خارش اور کھجلی بہت ہی تکلیف دہ کیفیت و علامت ہے جو کہ مریض کے لئے جسمانی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی کرب اور تشویش کا باعث بنتی ہے۔ ذرا تصور میں لائیے کہ اگر یہ خارش کسی خاتون کے پرائیویٹ اعضاء یعنی شرمگاہ میں ہو تو کس قدر اذیت اور پشیمانی کا سامان اپنے اندر رکھتی ہو گی؛ اُس عفت مآب کو یہ عارضہ دکھ، شرمندگی اور مستقل بے چینی میں مبتلا کرتا رہتا ہوگا۔ یہ کیس ایسے ہی مسئلہ کا شکار ایک محترمہ کا ہے جس کی عمر 25 سال تھی۔ اُس کی شرمگاہ کے متاثرہ حصوں پر جب …
ایک آن لائن کلائنٹ کے جذبات – ہومیوپیتھک علاج
سر جی! مَیں کافی بہتر ہو گیا ہوں۔ آپ نے بہت محنت کی ہے مگر ابھی کچھ اندر چیزیں ہیں جو تنگ کرتی ہیں۔ ان شاء اللہ وہ بھی بہتر ہو جائیں گی ۔۔۔۔ پھر داوئی کو بھول جائیں گے ۔۔۔ وقت کے حساب سے لیں گے ۔۔۔۔۔۔ سر جی آپ ایک اچھے ڈاکٹر اور انسان ھو ۔۔۔۔۔ خیال رکھنے والے ۔۔۔ اللہ اجر دے آپ کو اب آپ نے میری طرح میری بیگم کو بہتر کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس کا خیال کریں گے ——————————————— ذہنی اور نفسیاتی مسائل میں ہومیوپیتھک علاج کے اثرات – ایک …
